اتوار 31 مئی 2026 - 19:00
چالیس روزہ جنگ کے بعد: بندر عباس اور شہرِ میناب کا پہلا مشاہداتی سفر

حوزہ/یہ سفر میرے اب تک کے تمام سفروں میں سب سے منفرد اور بے چین کرنے والا تھا۔ یوں تو ہماری ایک عمر عالمِ مسافرت اور حالتِ سفر میں گزری ہے، لیکن اس سفر کے لیے ہماری آمادگی میں ایک الگ رغبت، کسک اور والہانہ پن تھا۔ طبیعت کی ناسازی کے باوجود، میں اس سفر سے محروم ہونا نہیں چاہتا تھا۔

تحریر: محمد بشیر دولتی

حوزہ نیوز ایجنسی| یہ سفر میرے اب تک کے تمام سفروں میں سب سے منفرد اور بے چین کرنے والا تھا۔ یوں تو ہماری ایک عمر عالمِ مسافرت اور حالتِ سفر میں گزری ہے، لیکن اس سفر کے لیے ہماری آمادگی میں ایک الگ رغبت، کسک اور والہانہ پن تھا۔ طبیعت کی ناسازی کے باوجود، میں اس سفر سے محروم ہونا نہیں چاہتا تھا۔

یہ دورہ 'المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی' کی جانب سے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے سوشل میڈیا پر فعال طلاب کے لیے ترتیب دیا گیا تھا۔ ہمارے مدرسے کی انتظامیہ نے مجھے اس قافلے کے لیے منتخب کیا۔ ایران پر امریکہ و اسرائیل کی طرف سے مسلط کردہ چالیس روزہ جنگ کے دوران، عوامی جذبات، اتحاد اور شعور کو ہم نے بہت قریب سے دیکھا تھا۔

ساحر لدھیانوی نے کیا خوب کہا تھا:

ٹینک آگے بڑھیں کہ پیچھے ہٹیں

کوکھ دھرتی کی بانجھ ہوتی ہے

لیکن جب عالمی امن کا خود ساختہ ٹھیکیدار ، جس نے دنیا میں ایٹم بم جیسا مہلک ہتھیار استعمال کرنے کی تاریخ رقم کی ہو، اور جو ہزاروں ایٹمی میزائلوں کے علاوہ آج بھی تین سو سے زائد ایٹم بم رکھنے کا دعویدار ہو ، وہ یہ کہے کہ 'ایرانی ایٹمی پلانٹ عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں'، تو اہلِ نظر کے لیے یہ دعوای پاگل پن کے سوا کچھ نہیں۔ یہی ملک جب دورانِ مذاکرات، ہزاروں میل دور سے ایران پر حملہ آور ہوتا ہے، تو یہ کسی ذمہ دار مملکت کا نہیں بلکہ ایک درندہ صفت قوت کا عمل لگتا ہے۔

وہی ملک جب ایران جیسے پرامن ملک کے سربراہ اور عالمِ تشیع کے مذہبی رہنما، 'رہبرِ مستضعفینِ جہاں' سید علی خامنہ ای کو شہید کرے، اور اس کے فوراً بعد میناب کے 'شجرہ طیبہ' اسکول کے معصوم بچوں پر اپنے تین جدید 'ٹام ہاک' (Tomahawk) کروز میزائلوں سے حملہ کر دے، جس کے نتیجے میں 168 معصوم بچوں اور بچیوں کے نازک اعضاء فضائے میناب میں بکھر جائیں، تو یہ نہ صرف جنگی جرم ہے بلکہ جدید دور میں وحشت و بربریت کی ایک نئی تاریخ ہے۔

المیہ یہ ہے کہ اکثر ممالک، بالخصوص مسلم دنیا کے حکمرانوں کو یہ توفیق بھی نہ ہوئی کہ وہ امریکہ کے اس وحشت ناک حملے کی زبانی مذمت ہی کر دیتے۔ امریکہ، جو کہ ایک جنایت کار ملک ہے، نے حسبِ سابق اس حملے کو قبول کرنے سے انکار کیا؛ بلکہ ٹرمپ نے اپنے جھوٹ کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ایک مضحکہ خیز دعویٰ کیا کہ یہ حملہ خود ایران نے کیا ہے کیونکہ ایران کے پاس بھی چند امریکی کروز میزائل موجود ہیں۔ ٹرمپ کے اس دعوے کو بعد ازاں عالمی میڈیا نے مسترد کر دیا، جس میں نیویارک ٹائمز اور الجزیرہ نے تفصیلاً اس حملے کو امریکہ کی طرف سے معصوم بچوں پر جان بوجھ کر کیا گیا حملہ اور بربریت قرار دیا۔

ایران پر امریکی-اسرائیلی حملہ، رہبرِ معظم کی شہادت اور میناب کے بچوں کے قتلِ عام پر اٹلی، فرانس، روس اور چین کے علاوہ کسی دوسرے مسلم یا غیر مسلم حکمران کی جانب سے کوئی مذمتی بیان سامنے نہیں آیا یہ انتہائی تشویشناک عمل ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران بھر میں فوجی و عسکری مقامات کے علاوہ عوامی مقامات پر بھی حملے ہوئے، جن کے نتیجے میں اب تک تین ہزار کے قریب عوام شہید اور تیس ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ درجنوں ہسپتالوں، ہلالِ احمر کے مراکز، سینکڑوں ایمبولینسوں، ہزاروں عمارتوں، دکانوں، تہران ٹیکنیکل یونیورسٹی سمیت کئی تعلیمی اداروں، کھیلوں کے مراکز اور سینکڑوں پارکوں کے علاوہ چوبیس اسکولوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

ان سب میں سب سے دردناک حملہ صوبہ ہرمزگان کے قدیمی شہر میناب کے اسکول پر ہوا، جہاں 168 افراد شہید ہوئے۔ شہید ہونے والے بچوں میں اکثر کے جسموں کے صرف ٹکڑے ہی مل سکے، جنہیں ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد والدین کے حوالے کیا گیا۔ ان شہداء نے ایران بھر کے عوام میں یکجہتی، انتقام اور مقاومت کا ایک نیا جذبہ پیدا کر دیا ہے؛ یہی وجہ ہے کہ پورے ایران سے لوگ جوق در جوق شہدائے میناب کی زیارت اور امریکی ظلم و بربریت کا مشاہدہ کرنے پہنچ رہے ہیں۔

المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے زیر اہتمام اس عالمی تیس رکنی وفد میں پاکستان، ہندوستان، افغانستان، بنگلہ دیش، آذربائیجان، قازقستان، نائیجیریا، الجزائر سمیت امریکہ اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے طلاب بھی شامل تھے۔

عالمی راہیان نور کا یہ کارواں قم سے بیس گھنٹے کے طویل سفر کے بعد خلیج فارس کے ساحل پر واقع شہر بندرِ عباس پہنچ گیا۔ تھکا دینے والے اس سفر میں مختلف ترانے اور سرود ہمارے جذبات کو تازگی بخشتے رہے۔ اس تازگی اور میناب کے شھداء کے یادگار اور قبور کی زیارت کی تڑپ اور اس کی حدت نے ایران کے جنوب کی گرمی کو محسوس ہونے نہیں دیا۔ مغرب کے وقت جب ہم شہر بندر عباس پہنچے تو ہمیں ایک گورنمنٹ اسکول میں ٹھرایا گیا جہاں کھانے پینے کے بہترین انتظامات تھے ،اسکول کے صحن سے لے کر کلاس روم تک میں ننھے بچے اور بچیوں کی مختلف دلکش ڈرائنگ نے ہمیں بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں اور اسکول کے ٹیچرز کی محنتوں اور شفقتوں کی طرف متوجہ کیا لیکن آہستہ آہستہ یہ نقاشی ہمیں میناب میں شکریہ طیبہ اسکول کے ان بچوں اور بچیوں کی یاد میں ڈبوگیا۔۔۔وہاں بھی ننھے بچے اور بچیاں تھیں،چاہنے والی استانیاں لیکن اب وہ نہیں رہے نہ ان کا اسکول،نہ معصوم بچے،نہ پیاری پینٹنگ نہ ہی بچوں کی تصویروں اور ڈرائنگ سے سجی دیواریں۔۔۔۔اس فکر نے ہم پر ایسا اثر کیا کہ جیسے ہم بندر عباس کے اسکول میں نہیں بلکہ میناب کے شجرہ طیبہ کے ملبوں پہ پر ہوں ،دل جب زیادہ مغموم ہوا تو آنکھیں چھلکنے والی تھیں ایسے میں ہم بوجھل بوجھل قدموں سے مسجد کی طرف نکل گئے، تاکہ اس بے قرار دل کو کچھ قرار مل سکے (بقیہ تفصیلات دوسرے حصے میں، ان شاء اللہ)

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha